Published 5 months ago in Sufi Kalam

kalam e iqbal | Alama iqbal kalam | Alama iqbal poetry | Tere shishe

  • 32
  • 0
  • 0
  • 1
  • 0
  • 0

Fsee production is trying to present the best ever sufi kalam's for his listeners and keep digging good content for sufi community . If you guys have some better ideas please let us know in comment box with some new suggestions and we will go through it and keep doing good work . peace

Lyrics

ترے شیشے میں مئے باقی نہیں ہے
بتا کیا تو مرا ساقی نہیں ہے
سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم
بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے
نگاہ فقر میں شان سکندری کیا ہے
خراج کی جو گدا ہو وہ قیصری کیا ہے
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
فلک نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں
خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے
فقط نگاہ سے ہوتا ہے فیصلہ دل کا
نہ ہو نگاہ میں شوخی تو دلبری کیا ہے
اسی خطا سے عتاب ملوک ہے مجھ پر
کہ جانتا ہوں مال سکندری کیا ہے
کسے نہیں ہے تمنائے سروری لیکن
خودی کی موت ہو جس میں وہ سروری کیا ہے
خوش آ گئی ہے جہاں کو قلندری میری
وگرنہ شعر مرا کیا ہے شاعری کیا ہے

:
/ :

Queue

Clear