نشرت منذ 8 الشهور في كلمة صوفية

Tera andesha aflaki nahin hai | Alama Iqbal Poetry

  • 33
  • 0
  • 0
  • 0
  • 0
  • 0

Iqbal poetry always amaze us so we always try to bring new content of ibal poetry and other sufi kalams as well for our audience to enjoy their leisure time on fsee production platform

كلمات الاغنية

ترا اندیشہ افلاکی نہیں ہے
تری پرواز لولاکی نہیں ہے

یہ مانا اصل شاہینی ہے تیری
تری آنکھوں میں بے باکی نہیں ہے

وہ میرا رونق محفل کہاں ہے
مری بجلی مرا حاصل کہاں ہے

مقام اس کا ہے دل کی خلوتوں میں
خدا جانے مقام دل کہاں ہے

دوا کی تلاش میں رہا دعا کو چھوڑ کر
میں چل نہ سکا دنیا میں خطاؤں کو چھوڑ کر

حیران ہوں میں اپنی حسرتوں پہ اقبال
ہر چیز خدا سے مانگ لی مگر خدا کو چھوڑ کر

ظالم بحر میں کھو کر سنبھل جا
تڑپ جا پیچ کھا کھا کر بدل جا

نہیں ساحل تری قسمت میں اے موج
ابھر کر جس طرف چاہے نکل جا

ترے سینے میں دم ہے دل نہیں ہے
ترا دم گرامئ محفل نہیں ہے

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغ راہ ہے منزل نہیں ہے

::
/ ::

طابور

واضح